اردو - سورہ نبا

قرآن کریم » اردو » سورہ نبا

اردو

سورہ نبا - آیات کی تعداد 40
عَمَّ يَتَسَاءَلُونَ ( 1 ) نبا - الآية 1
(یہ) لوگ کس چیز کی نسبت پوچھتے ہیں؟
عَنِ النَّبَإِ الْعَظِيمِ ( 2 ) نبا - الآية 2
(کیا) بڑی خبر کی نسبت؟
الَّذِي هُمْ فِيهِ مُخْتَلِفُونَ ( 3 ) نبا - الآية 3
جس میں یہ اختلاف کر رہے ہیں
كَلَّا سَيَعْلَمُونَ ( 4 ) نبا - الآية 4
دیکھو یہ عنقریب جان لیں گے
ثُمَّ كَلَّا سَيَعْلَمُونَ ( 5 ) نبا - الآية 5
پھر دیکھو یہ عنقریب جان لیں گے
أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ مِهَادًا ( 6 ) نبا - الآية 6
کیا ہم نے زمین کو بچھونا نہیں بنایا
وَالْجِبَالَ أَوْتَادًا ( 7 ) نبا - الآية 7
اور پہاڑوں کو (ا س کی) میخیں (نہیں ٹھہرایا؟)
وَخَلَقْنَاكُمْ أَزْوَاجًا ( 8 ) نبا - الآية 8
(بے شک بنایا) اور تم کو جوڑا جوڑابھی پیدا کیا
وَجَعَلْنَا نَوْمَكُمْ سُبَاتًا ( 9 ) نبا - الآية 9
اور نیند کو تمہارے لیے (موجب) آرام بنایا
وَجَعَلْنَا اللَّيْلَ لِبَاسًا ( 10 ) نبا - الآية 10
اور رات کو پردہ مقرر کیا
وَجَعَلْنَا النَّهَارَ مَعَاشًا ( 11 ) نبا - الآية 11
اور دن کو معاش (کا وقت) قرار دیا
وَبَنَيْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعًا شِدَادًا ( 12 ) نبا - الآية 12
اور تمہارے اوپر سات مضبوط (آسمان) بنائے
وَجَعَلْنَا سِرَاجًا وَهَّاجًا ( 13 ) نبا - الآية 13
اور (آفتاب کا) روشن چراغ بنایا
وَأَنزَلْنَا مِنَ الْمُعْصِرَاتِ مَاءً ثَجَّاجًا ( 14 ) نبا - الآية 14
اور نچڑتے بادلوں سے موسلا دھار مینہ برسایا
لِّنُخْرِجَ بِهِ حَبًّا وَنَبَاتًا ( 15 ) نبا - الآية 15
تاکہ اس سے اناج اور سبزہ پیدا کریں
وَجَنَّاتٍ أَلْفَافًا ( 16 ) نبا - الآية 16
اور گھنے گھنے باغ
إِنَّ يَوْمَ الْفَصْلِ كَانَ مِيقَاتًا ( 17 ) نبا - الآية 17
بےشک فیصلہ کا دن مقرر ہے
يَوْمَ يُنفَخُ فِي الصُّورِ فَتَأْتُونَ أَفْوَاجًا ( 18 ) نبا - الآية 18
جس دن صور پھونکا جائے گا تو تم لوگ غٹ کے غٹ آ موجود ہو گے
وَفُتِحَتِ السَّمَاءُ فَكَانَتْ أَبْوَابًا ( 19 ) نبا - الآية 19
اور آسمان کھولا جائے گا تو (اس میں) دروازے ہو جائیں گے
وَسُيِّرَتِ الْجِبَالُ فَكَانَتْ سَرَابًا ( 20 ) نبا - الآية 20
اور پہاڑ چلائے جائیں گے تو وہ ریت ہو کر رہ جائیں گے
إِنَّ جَهَنَّمَ كَانَتْ مِرْصَادًا ( 21 ) نبا - الآية 21
بےشک دوزخ گھات میں ہے
لِّلطَّاغِينَ مَآبًا ( 22 ) نبا - الآية 22
(یعنی) سرکشوں کا وہی ٹھکانہ ہے
لَّابِثِينَ فِيهَا أَحْقَابًا ( 23 ) نبا - الآية 23
اس میں وہ مدتوں پڑے رہیں گے
لَّا يَذُوقُونَ فِيهَا بَرْدًا وَلَا شَرَابًا ( 24 ) نبا - الآية 24
وہاں نہ ٹھنڈک کا مزہ چکھیں گے۔ نہ (کچھ) پینا (نصیب ہو گا)
إِلَّا حَمِيمًا وَغَسَّاقًا ( 25 ) نبا - الآية 25
مگر گرم پانی اور بہتی پیپ
جَزَاءً وِفَاقًا ( 26 ) نبا - الآية 26
(یہ) بدلہ ہے پورا پورا
إِنَّهُمْ كَانُوا لَا يَرْجُونَ حِسَابًا ( 27 ) نبا - الآية 27
یہ لوگ حساب (آخرت) کی امید ہی نہیں رکھتے تھے
وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا كِذَّابًا ( 28 ) نبا - الآية 28
اور ہماری آیتوں کو جھوٹ سمجھ کر جھٹلاتے رہتے تھے
وَكُلَّ شَيْءٍ أَحْصَيْنَاهُ كِتَابًا ( 29 ) نبا - الآية 29
اور ہم نے ہر چیز کو لکھ کر ضبط کر رکھا ہے
فَذُوقُوا فَلَن نَّزِيدَكُمْ إِلَّا عَذَابًا ( 30 ) نبا - الآية 30
سو (اب) مزہ چکھو۔ ہم تم پر عذاب ہی بڑھاتے جائیں گے
إِنَّ لِلْمُتَّقِينَ مَفَازًا ( 31 ) نبا - الآية 31
بے شک پرہیز گاروں کے لیے کامیابی ہے
حَدَائِقَ وَأَعْنَابًا ( 32 ) نبا - الآية 32
(یعنی) باغ اور انگور
وَكَوَاعِبَ أَتْرَابًا ( 33 ) نبا - الآية 33
اور ہم عمر نوجوان عورتیں
وَكَأْسًا دِهَاقًا ( 34 ) نبا - الآية 34
اور شراب کے چھلکتے ہوئے گلاس
لَّا يَسْمَعُونَ فِيهَا لَغْوًا وَلَا كِذَّابًا ( 35 ) نبا - الآية 35
وہاں نہ بیہودہ بات سنیں گے نہ جھوٹ (خرافات)
جَزَاءً مِّن رَّبِّكَ عَطَاءً حِسَابًا ( 36 ) نبا - الآية 36
یہ تمہارے پروردگار کی طرف سے صلہ ہے انعام کثیر
رَّبِّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا الرَّحْمَٰنِ ۖ لَا يَمْلِكُونَ مِنْهُ خِطَابًا ( 37 ) نبا - الآية 37
وہ جو آسمانوں اور زمین اور جو ان دونوں میں ہے سب کا مالک ہے بڑا مہربان کسی کو اس سے بات کرنے کا یارا نہیں ہوگا
يَوْمَ يَقُومُ الرُّوحُ وَالْمَلَائِكَةُ صَفًّا ۖ لَّا يَتَكَلَّمُونَ إِلَّا مَنْ أَذِنَ لَهُ الرَّحْمَٰنُ وَقَالَ صَوَابًا ( 38 ) نبا - الآية 38
جس دن روح (الامین) اور فرشتے صف باندھ کر کھڑے ہوں گے تو کوئی بول نہ سکے گا مگر جس کو (خدائے رحمٰن) اجازت بخشے اور اس نے بات بھی درست کہی ہو
ذَٰلِكَ الْيَوْمُ الْحَقُّ ۖ فَمَن شَاءَ اتَّخَذَ إِلَىٰ رَبِّهِ مَآبًا ( 39 ) نبا - الآية 39
یہ دن برحق ہے۔ پس جو شخص چاہے اپنے پروردگار کے پاس ٹھکانہ بنا ئے
إِنَّا أَنذَرْنَاكُمْ عَذَابًا قَرِيبًا يَوْمَ يَنظُرُ الْمَرْءُ مَا قَدَّمَتْ يَدَاهُ وَيَقُولُ الْكَافِرُ يَا لَيْتَنِي كُنتُ تُرَابًا ( 40 ) نبا - الآية 40
ہم نے تم کو عذاب سے جو عنقریب آنے والا ہے آگاہ کر دیا ہے جس دن ہر شخص ان (اعمال) کو جو اس نے آگے بھیجے ہوں گے دیکھ لے گا اور کافر کہے گا کہ اے کاش میں مٹی ہوتا

کتب

  • طب نبویزیر نظر کتاب میں علاج کے احکامات, پرہیزاور مفرد دواؤں کے ذریعہ علاج کی فضیلت ’ زخموں وغیرہ کے امراض کے لئے ہدایات’متعدى اور موذی امراض سے بچاؤ کی تدابیر’ صحت ’اسکی حفاظت اور نفسیاتی امراض وغیرہ کے علاج کی تفاصیل اور آداب بیان کئے گئے ہیں اور اسمیں ایسی نصیحتیں اور مفید مشورے بھی درج ہیں جو آج کے دور میں جدید طب کے مطابق بالکل ہم آہنگ ہیں- حکما وعلما ئے طب کا بیان ہے کہ امام ابن القیم الجوزیہ رحمۃ اللہ علیہ نے اس کتاب میں جو طبی فوائد اور نادر تجربات ونسخے پیش کیے ہیں ’وہ امام صاحب کی طرف سے طبی دنیا میں نیا اضافہ ہیں جو کہ طبی دنیا میں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی- علامہ ابن القیم رحمۃ اللہ علیہ کی اس کتاب میں نبی اکرم صلى اللہ علیہ وسلم کی یہ طبیبانہ سیرت خاص طور پرمعلوم ہوتی ہے کہ آپ نے مریضوں کو یہ ہدایت فرمائی ہے کہ وہ علاج کیلئے ماہر اطباء کو تلاش کریں اور کلی اعتماد کے ساتھ اپنے امراض کا حال بتائیں اور انکی ہدایات پرعمل کریں’ اور طبیب جودوا تجویز کرے اسکو استعمال کریں’ اور دواکے ساتھ اللہ تعالى' سے صحت وشفاء کی دعا کریں کیونکہ سب کچھ اسی کے ہاتھ میں ہے’ اور دعائیں بھی طبع زاد نہیں بلکہ نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم سے ماثورومنقول دعاؤں کو یاد کرکے پڑھیں- یہ ایک بڑی اہم اورخاص ہدایت ہے’ جس سے اکثرلوگ غفلت برتتے ہیں کیونکہ کچھ لوگ تو صرف دواکرتے ہیں اور کچھ لوگ صرف دعا کرتے ہیں جبکہ یہ دونوں طریقے حق وصواب سے ہٹے ہوئے ہیں اور کتاب وسنت کی تعلیم سے دور ہیں-لہذا دوا اور دعا دونوں کا استعمال ایک ساتھ ضروری ہے نبی اکرم صلى اللہ علیہ وسلم نے دونوں علاج ایک ساتھ کرنے کا حکم فرمایا ہے’ لہذا ان میں سے کسی ایک کواپنے لئے کافی نہ سمجھا جائے- یہ کتاب "زاد المعاد فی ھدی خیرالعباد" کے ایک باب "الطب النبوی" کا علیحدہ حصہ ہے جسے ایک کتاب کی شکل میں الگ سے طبع کیا گیا ہے.

    تاليف : علامہ ابن قیم الجوزی

    نظر ثانی کرنے والا : مختار احمد الندوی - شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی

    مصدر : http://www.islamhouse.com/p/333635

    التحميل :طب نبوی

  • (ايران ، لبنان و خليجي ممالك میں سرگرم تنظیم) حزب اللہ کون ہے؟حزب الله كون ہے؟ :لبنان کی شیعہ تنظیم حزب اللہ کی حقیقت حال سے نا واقفیت کی بنا پر بہت سارے مسلمان دھوکہ کھا گئےٍ ہیں –حتى کہ کچھ جاہل سنی مسلمان اس تنظیم کے سربراہ حسن نصراللہ کو مسلمانوں کا ہیروقراردے رہے ہیں- اور اسے خراج تحسین پیش کرنے کیلئےاس کے سرکو بوسہ دینے کی دعوت دے رہے ہیں- یقیناً یہ بہت بڑی جہالت کی بات ہے جسکا سبب اس تنظیم کی اصلیت’ انکے عقائد’مقاصد اور انکی تاریخی حیثیت سے ناواقفیت ہے جوکہ بے گناہ سنی مسلمانوں کے خون سے آلودہ ہے.اللہ عمرفاروق پررحم فرمائے انہوں نے کیا خوب فرمایا ہے: "یقیناً اسلام کی گرہیں ایک ایک کرکے کھلتی جائیں گی جب اسلام میں ایسے لوگ داخل ہوجائیں گے جو جاہلیت سے ناواقف ہوں گے"-کتاب مذکور میں چند ایسے بنیادی سوالوں کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو حزب اللہ کی اصلیت کو واضح کردے اور اسکے مخفی گھناؤنے چہرے کو سنّی مسلمانوں کے سامنے بے نقاب کردے. نہایت ہی مفید کتاب ہے ضرور مطالعہ کریں.

    نظر ثانی کرنے والا : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی

    مصدر : http://www.islamhouse.com/p/340027

    التحميل :(ايران ، لبنان و خليجي ممالك میں سرگرم تنظیم) حزب اللہ کون ہے؟

  • كيا مردے سنتے ہیں؟كيا مردے سنتے ہیں؟ سماع موتى کے مسئلے پر ایک سنجیدہ مکالمہ ہے جس میں مذکورہ مسئلے کی حیقیقت اور اس کے متعلق وارد شکوک وشبہات کا کتاب وسنت کے دلائل کی روشنی مین بہترین جواب دیا گیا ہے. اسلوب بیان آسان اور سوال وجواب کی صورت میں ہے جس سے معمولى پڑھا لکھا آدمی بھی بآسانی استفادہ کرسکتا ہے.

    تاليف : حافظ محمد عبد اللہ بہاولپوری

    نظر ثانی کرنے والا : عطاء الرحمن ضياء الله - محمد سرور عاصم

    اصدارات : مکتبہ اسلامیہ پاکستان

    مصدر : http://www.islamhouse.com/p/78449

    التحميل :كيا مردے سنتے ہیں؟

  • صفات المنافقین-

    تاليف : علامہ ابن قیم الجوزی

    اصدارات : وزارت برائے اسلامی امور واوقاف ودعوت وارشاد ریاض

    مصدر : http://www.islamhouse.com/p/61

    التحميل :صفات المنافقین

  • نزول عيسى ابن مريم علیہ السلامزیرنظرکتاب میں شرعی نقطۂ نظرسے قرب قیامت عیسى' علیہ السلا م کے دوبارہ دنیا میں نازل ہونےکوثابت کیا گیا ہے اوریہ کہ انکے ہاتھوں مسیح الدجال کا باب لدّ کے پاس شام میں قتل ہوگا اورپھردنیا میں عدل ,امن وامان اورصدقات وخیرات عام ہوجائیگا’اور مال کی بہتات وفراوانی ہوگی یہاں تک کہ یأجوج ومأجوج کا ظہورہوگا جودنیا میںفتنہ فسادکرکے آسمان میں بھی فتنہ وفساد کرنے کی کوشش کریں گے لیکن عیسى ' علیہ السلام کی بددعا کیوجہ سے اللہ کے حکم سے انكی گردنوں میں کیڑے پیداہوجائیں گے اوراسی سی موت واقع ہوجائے گی, پھرآخرمیں ایک ہوا چلے گی جس سے سارے مومن مرجائیں گے اورکافروفاجرواشرارلوگ باقی رہ جائیں گے اورانہیں پرقیامت آٹوٹےٍ گی. تاليف : ابو عمیر سلفی.

    نظر ثانی کرنے والا : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی

    مصدر : http://www.islamhouse.com/p/152881

    التحميل :نزول عيسى ابن مريم علیہ السلام

اختر اللغة

اختر سورہ

کتب

اختر تفسير

المشاركه

Bookmark and Share