اردو
سورہ واقعہ - آیات کی تعداد 96
فَأَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ ( 8 )
تو داہنے ہاتھ والے (سبحان الله) داہنے ہاتھ والے کیا (ہی چین میں) ہیں
وَأَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ ( 9 )
اور بائیں ہاتھ والے (افسوس) بائیں ہاتھ والے کیا (گرفتار عذاب) ہیں
وَالسَّابِقُونَ السَّابِقُونَ ( 10 )
اور جو آگے بڑھنے والے ہیں (ان کا کیا کہنا) وہ آگے ہی بڑھنے والے ہیں
يَطُوفُ عَلَيْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُونَ ( 17 )
نوجوان خدمت گزار جو ہمیشہ (ایک ہی حالت میں) رہیں گے ان کے آس پاس پھریں گے
بِأَكْوَابٍ وَأَبَارِيقَ وَكَأْسٍ مِّن مَّعِينٍ ( 18 )
یعنی آبخورے اور آفتابے اور صاف شراب کے گلاس لے لے کر
لَّا يُصَدَّعُونَ عَنْهَا وَلَا يُنزِفُونَ ( 19 )
اس سے نہ تو سر میں درد ہوگا اور نہ ان کی عقلیں زائل ہوں گی
وَأَصْحَابُ الْيَمِينِ مَا أَصْحَابُ الْيَمِينِ ( 27 )
اور داہنے ہاتھ والے (سبحان الله) داہنے ہاتھ والے کیا (ہی عیش میں) ہیں
وَأَصْحَابُ الشِّمَالِ مَا أَصْحَابُ الشِّمَالِ ( 41 )
اور بائیں ہاتھ والے (افسوس) بائیں ہاتھ والے کیا (ہی عذاب میں) ہیں
وَكَانُوا يَقُولُونَ أَئِذَا مِتْنَا وَكُنَّا تُرَابًا وَعِظَامًا أَإِنَّا لَمَبْعُوثُونَ ( 47 )
اور کہا کرتے تھے کہ بھلا جب ہم مرگئے اور مٹی ہوگئے اور ہڈیاں (ہی ہڈیاں رہ گئے) تو کیا ہمیں پھر اُٹھنا ہوگا؟
لَمَجْمُوعُونَ إِلَىٰ مِيقَاتِ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ ( 50 )
(سب) ایک روز مقرر کے وقت پر جمع کئے جائیں گے
نَحْنُ خَلَقْنَاكُمْ فَلَوْلَا تُصَدِّقُونَ ( 57 )
ہم نے تم کو (پہلی بار بھی تو) پیدا کیا ہے تو تم (دوبارہ اُٹھنے کو) کیوں سچ نہیں سمجھتے؟
أَأَنتُمْ تَخْلُقُونَهُ أَمْ نَحْنُ الْخَالِقُونَ ( 59 )
کیا تم اس (سے انسان) کو بناتے ہو یا ہم بناتے ہیں؟
نَحْنُ قَدَّرْنَا بَيْنَكُمُ الْمَوْتَ وَمَا نَحْنُ بِمَسْبُوقِينَ ( 60 )
ہم نے تم میں مرنا ٹھہرا دیا ہے اور ہم اس (بات) سے عاجز نہیں
عَلَىٰ أَن نُّبَدِّلَ أَمْثَالَكُمْ وَنُنشِئَكُمْ فِي مَا لَا تَعْلَمُونَ ( 61 )
کہ تمہاری طرح کے اور لوگ تمہاری جگہ لے آئیں اور تم کو ایسے جہان میں جس کو تم نہیں جانتے پیدا کر دیں
وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ النَّشْأَةَ الْأُولَىٰ فَلَوْلَا تَذَكَّرُونَ ( 62 )
اور تم نے پہلی پیدائش تو جان ہی لی ہے۔ پھر تم سوچتے کیوں نہیں؟
لَوْ نَشَاءُ لَجَعَلْنَاهُ حُطَامًا فَظَلْتُمْ تَفَكَّهُونَ ( 65 )
اگر ہم چاہیں تو اسے چورا چورا کردیں اور تم باتیں بناتے رہ جاؤ
أَأَنتُمْ أَنزَلْتُمُوهُ مِنَ الْمُزْنِ أَمْ نَحْنُ الْمُنزِلُونَ ( 69 )
کیا تم نے اس کو بادل سے نازل کیا ہے یا ہم نازل کرتے ہیں؟
لَوْ نَشَاءُ جَعَلْنَاهُ أُجَاجًا فَلَوْلَا تَشْكُرُونَ ( 70 )
اگر ہم چاہیں تو ہم اسے کھاری کردیں پھر تم شکر کیوں نہیں کرتے؟
أَأَنتُمْ أَنشَأْتُمْ شَجَرَتَهَا أَمْ نَحْنُ الْمُنشِئُونَ ( 72 )
کیا تم نے اس کے درخت کو پیدا کیا ہے یا ہم پیدا کرتے ہیں؟
نَحْنُ جَعَلْنَاهَا تَذْكِرَةً وَمَتَاعًا لِّلْمُقْوِينَ ( 73 )
ہم نے اسے یاد دلانے اور مسافروں کے برتنے کو بنایا ہے
وَتَجْعَلُونَ رِزْقَكُمْ أَنَّكُمْ تُكَذِّبُونَ ( 82 )
اور اپنا وظیفہ یہ بناتے ہو کہ (اسے) جھٹلاتے ہو
وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنكُمْ وَلَٰكِن لَّا تُبْصِرُونَ ( 85 )
اور ہم اس (مرنے والے) سے تم سے بھی زیادہ نزدیک ہوتے ہیں لیکن تم کو نظر نہیں آتے
فَرَوْحٌ وَرَيْحَانٌ وَجَنَّتُ نَعِيمٍ ( 89 )
تو (اس کے لئے) آرام اور خوشبودار پھول اور نعمت کے باغ ہیں
فَسَلَامٌ لَّكَ مِنْ أَصْحَابِ الْيَمِينِ ( 91 )
تو (کہا جائے گا کہ) تجھ پر داہنے ہاتھ والوں کی طرف سے سلام
کتب
- مختصرفضائل ومسائلِ حج وعمرہ (قرآن اور صحيح احاديث کی روشنی میں)حج وعمرہ زندگی میں ہرصاحب استطاعت مسلمان پرایک مرتبہ فرض ہے ،اورحج مبرورکا بدلہ صرف جنت ہے، لہذاجوآدمی فسق وفجوراورشہوت وجماع سے بچ کرسنت کے مطابق حج کرتا ہے تو گنا ہوں سےایسے پاک وصاف ہوجاتا ہے جیسے ایک بچہ ماں کی گود سے صاف ستھرامعصوم وبے گناہ پیدا ہوتا ہے. زیرنظرکتاب میں اسی حج وعمرہ کی فضیلت اوراسکےاحکام ومسائل کومختصراورجامع مانع اندازمیں ترتیب دیا گیا ہے ضرورپڑھیں.
تاليف : أبو عدنان محمد منير قمر
نظر ثانی کرنے والا : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی
اصدارات : http://www.quransunnah.com
- دين حق-
تاليف : عبدالرحمن بن حماد آل عمر
ترجمہ کرنے والا : سعيد احمد قمر الزماں
- حضرت عيسي علیہ السلام سے بے پناہ محبت نے مُجھے اسلام تک پہنچادیااس کتاب میں مؤلف نے اپنے اسلام قبول کرنے کا واقعہ بیان کرنے کے ساتھ ساتھ بے نظیرعقلی ونقلی دلائل سے مسیحی عقائد تثلیث’ الوہیتِ مسیح’ حقیقی گناہ اور کفّارہ کا پرزور رد کیا ہے اور اسلام کی حقّانیت کو واضح کیا ہے- جگہ جگہ قرآنِ مجید اور بائبل کے حوالہ جات سے بائبل کے تحریف شدہ ہونے اور اس میں جگہ جگہ اختلافات کے وجود کا ذکر کیا ہے نیز قرآنِ مجید کی حقّانیت اور قرآن کے تمام نسخوں کے لفظ بہ لفظ یکساں ہونے کو بھی بیان کیا ہے- مؤلف نے چند غیرمسلم دانشوروں کے نبی صلى اللہ علیہ وسلم سے متعلق اقوال’ بائبل میں درج نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم سے متعلق اقوال’ بائبل میں درج آپ صلى اللہ علیہ وسلم کی آمد کی چند بشارتیں اور حضرت عیسى علیہ السلام سے متعلق نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم کی احادیث بھی درج کی ہیں- مسیحی دوستوں سے درخواست ہے کہ تعصّب سے بالا ترہو کر اس کتاب کا مطالعہ کیجئے اور حق وسچ کو تلاش کیجئے تاکہ آپ کی آخرت سنورجائے- ایسا نہ ہو کہ اللہ تعالى کے حق دین کو ٹھکرا کرآپ آخرت میں عظیم خسارہ اٹھائیں-اللہ سے دعا ہے کہ آپ کا سینہ اسلام کے لئے کھول دے اور آپ کا دل اسلام کی طرف موڑدے ’تاکہ آپ حق کو قبول کریں- (آمین).
- المنتقى من منهاج الاعتدال في نقض كلام أهل الرفض والاعتزال [ مختصر منهاج السنة ]نصیرالدین طوسی کے خصوصی شا گرد معروف شیعہ عالم حسن بن یوسف بن على بن المطہرالمحلى (648,726) نے " منہاج الکرامۃ فی معرفۃ الإمۃ" کے نام سے ایک کتاب لکھی جو اہل سنت اور شیعہ کے درمیان متنازع مسائل پر مشتمل تھی – اس کتاب میں موضوع روایات کو بے دریغ بیان کیا کیا تھا اور صحابہ کرام رضی اللہ علیہم اجمعین کو طعن وتشنیع کا نشانہ بنا کراپنے خبث باطن کا بھرپورمظاہرہ کیا گیا تھا- شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اس کتاب کے رد میں "منهاج الاعتدال في نقض كلام أهل الرفض والإعتزال" کے نام سے چارجلدوں پرمشتمل ایک کتاب تحریرکی جو لوگوں میں منہاج السنۃ کے نام سے مشہورومعروف ہوئی- چونکہ کتاب ضخیم تھی اسلئے استفادہ میں آسانی کرنے کیلئے ابن تیمیہ کے مشہور شاگرد علامہ ذہبی رحمہ اللہ نے اس کتاب کا خلاصہ "المنتقى" کے نام سے تیارکیا اور سرزمین شام کے مشہور عالم محب الدین الخطیب رحمہ اللہ نے المنتقى کے قلمی نسخہ کی منہاج السنۃ مطبوعہ بولاق سے تقابل کرکے تصحیح کا اہتمام کیا – اصحاب الرسول صلى اللہ علیہ وسلم کی عظمت کے دفاع میں بے مثال کتا ب ہے ضرور مطالعہ کریں.
تاليف : شمس الدين الذهبي - شيخ الاسلام ابن تيمية
نظر ثانی کرنے والا : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی
اصدارات : www.aqeedeh.com فارسی زبان میں
- آل رسول اور اصحاب رسول ایک دوسرے کے ثنا خواںبعض لوگوں کے یہاں یہ غلط تصّور پایا جاتا ہے کہ صحابہ کرام اور آل بیت ایک دوسرے کی دشمنی دل میں چھپائے ہوئے تھے’ یہ دعوی بالکل بے بنیاد اور تاریخ کی تحریف ہے .بلکہ وہ تو ایسے ہیں جسکو اللہ نے بیان کیا ہے کہ : " کہ وہ کافروں پر بڑے سخت اور آپس میں ایک دوسرے پررحم کرنے والے ہیں- [سورة الفتح: 29]. کتابِ مذکورمیں آلِ رسول کی طرف سے صحابہ کرام کی تعریف وتوصیف اور صحابہ کرام کی طرف سے آلِ رسول کی تعریف وتوصیف کے سلسلے میں نہایت ہی اہم نصوص پیش کیے گئے ہیں ’ جس سے واضح طور پر یہ بات معلوم ہوجاتی ہے کہ آل رسول اور اصحاب رسول اپنے دلوں میں ایک دوسرے کیلئے کافی محبت ومودت اور عزت رکھتے تھے.
نظر ثانی کرنے والا : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی
اصدارات : مركز البحوث في مبرة الآل والأصحاب












